ایران میں کیا ہو سکتا ہے؟ زمینی حقائق
تحریر: جواد حسین رضوی
خاکسار کی عمر کا ایک حصّہ تہران میں گزرا ہے۔ وہاں موجود پاکستانی ایمبیسی اسکول سے انٹر کیا اور بعد ازاں تہران یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔ تہران میں پاکستانی کمیونٹی آٹے میں نمک کے برابر ہے؛ چند پاکستانی ڈپلومیٹ، ایمبیسی و اسکول کے ملازمین اور چند بزنس کے سلسلے میں مقیم تھے جن کو آپ انگلیوں پر گن سکتے ہیں۔ لہذا ہمارا اٹھنا بیٹھنا ایرانیوں کے ساتھ ہی رہا۔
تہران یونیورسٹی کا زمانہ تو ایرانی طلّاب کے ساتھ رہا جنہیں دانشجو کہا جاتا تھا۔ اس زمانے میں ہم ہر طرح کے ایرانیوں سے واقف ہوئے، یوں کہہ لیجیے کہ ایرانی سماج، ثقافت اور فکری تنوّع سے براہِ راست آشنائی ہوئی۔ مجھے ذاتی طور پر ایرانی اپنے سے لگتے ہیں، اور ایرانی بھی میری وضع قطع اور تہرانی لب و لہجے کی بنا پر مجھے اکثر ایرانی ہی سمجھتے تھے۔ تہران میں گزارا ہوا یہ زمانہ میری فکری آبیاری میں نہایت اہم ثابت ہوا، اور اسی دوران کئی ایرانی مفکّرین سے شناسائی ہوئی۔ اگر میں قم میں رہتا یا صرف پاکستانیوں کے درمیان محدود رہتا تو شاید یہ سب کچھ حاصل نہ ہو پاتا۔
ایران کے حوالے سے کافی لوگ لکھ رہے ہیں، مجھے محسوس ہوا کہ اکثر لوگ ایرانی سیاسی و فکری ڈائنامکس سے واقف نہیں ہیں، اس لئے سطحی یا غلط تجزیہ کرتے نظر آ رہے ہیں۔ اسی لئے یہ تحریر لکھنا لازمی سمجھا تاکہ ایران کی فکری تنوّع (diversity) سے متعلق آگاہی دے سکوں۔
یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ ایران کی اکثریت شیعہ اثنا عشری ہے جبکہ اہل سنت کی بھی ایک معقول تعداد ملک کے کچھ حصّوں میں آباد ہے۔ لیکن ایک بنیادی غلطی اکثر کی جاتی ہے کہ ایرانی شیعوں کو پاکستانی یا ہندوستانی شیعوں کی مانند سمجھ لیا جاتا ہے۔ برصغیر میں شیعہ کسی بھی طبقے سے تعلق رکھتا ہو، اہلِ بیتؑ سے محبت اور عزاداری کے ذریعے اس کا ایک رشتہ بہرحال باقی قوم سے جڑا رہتا ہے۔ یہ بات ایرانی شیعوں پر اسی طرح منطبق نہیں ہوتی۔
ایران میں یا تو لوگ مذہبی ہیں یا غیر مذہبی؛ ان کے ہاں درمیان کی کوئی چیز بہت کم پائی جاتی ہے۔ جیسے پاکستان میں ہر شخص کسی نہ کسی طرح دین سے جڑا ہے اور دینی شعائر کا احترام کرتا ہے؛ ایران میں یہ وصف تقریباً صرف مذہبی طبقے تک محدود ہے؛ جو مذہبی نہیں، وہ عموماً مذہب بیزار ہوتا ہے۔ ایرانیوں کے اس ایکسٹریم رویّے کا اظہار میں نے متعدد ایرانی مفکّرین سے کیا تو انہوں نے اس بات کی تائید کی۔ اس کی ایک واضح دلیل بیرونِ ایران مقیم ایرانیوں کی اکثریت ہے، جو بڑی حد تک مذہب بیزار نظر آتی ہے؛ محض ایک اقلیتی طبقہ ہی کسی درجے میں مذہب سے وابستہ دکھائی دیتا ہے۔ بیرونِ ملک مقیم قارئین اس بات کی تائید کریں گے۔
لہذا یہ سمجھنا کہ ایران کی موجودہ اسلامی رجیم تبدیل ہو جائے تو حکومت پھر بھی کسی شیعہ کی ہی ہوگی، شدید سادہ لوحی ہے۔ اس کی ایک دوسری وجہ یہ ہے کہ مذہبی افراد کی اکثریت اسلامی حکومت کی حامی ہے۔ جو مذہب سے وابستہ نہیں تو وہ ملحد یا مذہب بیزار افراد بچتے ہیں۔ ایران پاکستان نہیں ہے؛ پاکستان کے شیعہ چاہے لبرل ہوں یا متشکّک ہوں، ان کے اندر مومن بھائی والی Spark موجود ہوگی جبکہ ایران میں مومن بھائی تو چھوڑیں مسلمان بھائی والی رمق بھی شاذ و نادر نظر آتی ہے۔
اسی طرح اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ملّاؤں کی حکومت ختم ہو گئی تو پاکستان اور عراق جیسی نیوٹرل مسلمانوں کی حکومت آ جائے گی، تو یہ بھی خام خیالی ہے۔ یہ رجیم ختم ہو گئی تو سمجھ لیں کہ بالکل مادر پدر آزاد معاشرہ وجود میں آئے گا جس کے اسرائیل سے قریبی روابط ہوں گے۔ شاہ ایران کے دور سے بھی بدتر حالات ہوں گے۔ مسلمان صرف برائے نام ہی رہ جائیں گے۔ اسلامی شعائر کی توہین عام ہوگی جس کی مثالیں اس وقت بعض مظاہروں میں مساجد اور مزارات کو نذرِ آتش کرنے کی صورت میں دیکھی جا سکتی ہیں۔
مجموعی طور پر اگر ایران کی ڈیموگرافی کو سمجھا جائے تو تصویر کچھ یوں بنتی ہے:
1) مذہبی افراد جو کہ اسلامی رجیم کے ساتھ ہیں۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ ہے اگر پورے ایران کو مدّنظر رکھا جائے۔
2) مذہبی افراد جو اسلامی رجیم کو تسلیم تو کرتے ہیں لیکن موجودہ رہبر آیت اللہ خامنہ ای کو نہیں مانتے۔ یہ اسلامی انقلاب کے وہ حامی ہیں جنہیں رہبر سے سیاسی اختلاف ہے۔ ان میں مرحوم آيت اللہ منتظری کے مقلّدین شامل ہیں۔
3) مذہبی افراد جو اسلامی حکومت کو نہیں مانتے، بلکہ نظریۂ ولایتِ فقیہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ یہ افراد کل مذہبی آبادی کا بمشکل دس فیصد ہوں گے۔ ان میں بعض علماء و مراجع اور ان کے مقلّدین شامل ہیں۔ اس میں معروف اپوزیشن پارٹی ‘مجاہدینِ خلق’ کے ایک حصّے کو بھی شامل کر سکتے ہیں۔ بالفاظ دیگر سوشلسٹ اور بعض لبرل افراد کو بھی شامل کر سکتے ہیں جو ذاتی طور پر مذہب کو مانتے ہیں۔
4) باقی بچتے ہیں غیر مذہبی افراد جو یا تو ملحد ہیں یا دین سے بیزار ہیں۔
————————————-
واضح رہے کہ میرے پاس ان طبقات کے بارے میں کوئی باقاعدہ اعداد و شمار یا مستند سروے موجود نہیں، لیکن اپنے مشاہدے کی بنیاد پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ تقریباً ساٹھ فیصد ایرانی پہلے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ باقی چالیس فیصد دیگر طبقات پر مشتمل ہیں۔
جو پہلا طبقہ ہے وہی ایران میں اس وقت کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔ اس طبقے کو سیاسی لحاظ سے مزید دو حصّوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے؛
الف) قدامت پسند
ب) اصلاح پسند
قدامت پسند وہ افراد ہیں جن کے نزدیک موجودہ ایرانی نظام بالکل درست ہے، اس میں ترمیم کی کوئی ضرورت نہیں ہے، رہبر معظم کے پاس لامحدود اختیارات بالکل ٹھیک ہیں۔ ایران کی داخلہ و خارجہ پالیسی بھی بہترین ہے، یونہی امریکہ و اسرائیل کو تُن کر رکھنا چاہیے۔
جبکہ اصلاح پسند وہ افراد ہیں جن کے نزدیک موجودہ نظام میں اصلاح ہونی چاہیے، ایک فرد یا کچھ خاص اداروں کے پاس طاقت کا تمرکز کافی زیادہ ہے جس کو کم ہونا چاہیے۔ جبکہ عوام کے منتخب صدر اور مجلس کے اختیارات میں اضافہ ہونا چاہیے۔ ایران کو اپنی داخلہ و خارجہ پالیسی کو بدلنا چاہیے؛ اقوام عالم کے ساتھ اچھے روابط رکھنے چاہییں۔ یہ طبقہ مذہب پر بھی کاربند ہے اور انقلاب اسلامی کو بھی مانتا ہے؛ لیکن یہ موجودہ نظام اور پالیسیوں میں اصلاح چاہتا ہے۔ افسوس ہوا جب ایک فیس بک کی قدآور شخصیت ر ۔۔۔۔ فاروقی صاحب کو یہ لکھتے دیکھا کہ اصلاح پسند اسلامی نظام کے خلاف ہیں۔
ایران کی موجودہ سیاست انہی دو طبقات کے گرد گھومتی ہے۔ قدامت پسندوں کی نمائندگی محمود احمدی نژاد، مرحوم ابراہیم رئیسی اور قالیباف وغیرہ کرتے رہے ہیں جبکہ اصلاح پسندوں کی نمائندگی سابق صدر سید محمد خاتمی، حسن روحانی اور موجودہ صدر پزشکیان کرتے ہیں۔ یہ دونوں طبقات آیت اللہ خامنہ ای کو رہبر تسلیم کرتے ہیں۔ اور غالباً اسی توازن کو برقرار رکھنے کے لیے دونوں کو باری باری اقتدار کا موقع دیا جاتا ہے۔
———————————-
اس وقت مظاہرہ کرنے والے کون لوگ ہیں؟
یہ سوال سب سے اہم ہے۔ دیکھا جائے تو مندرجہ بالا تمام طبقات؛ حتیٰ کہ قدامت پسندوں کا ایک حصہ بھی؛ معاشی مشکلات پر شاکی ہے۔ پہلا طبقہ اسلامی رجیم کی سرنگونی نہیں چاہتا بلکہ معاشی ریلیف چاہتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ اصلاح پسند طبقہ یہ چاہتا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک سے اچھے تعلقات بنائے جائیں، نیوکلیئر ڈیل کر لی جائے (قدامت پسند طبقہ نیوکلیئر ڈیل کا مخالف ہے)، تاکہ پابندیاں ختم ہو جائیں اور معاشی حالات بہتر ہوں۔ بالفاظ دیگر اصلاح پسند طبقہ نظام میں تبدیلی نہیں بلکہ اصلاح چاہتا ہے۔ یہ لوگ پر امن ہیں اور ہرگز نہیں چاہتے کہ ایران میں بیرونی مداخلت کے تحت انتشار پیدا ہو۔
ظاہری طور پر دوسرا طبقہ بھی رجیم کی تبدیلی کا خواہاں نہیں ہے، اور تیسرے طبقے کے زیادہ تر افراد اس معاملے میں نیوٹرل نظر آتے ہیں۔ جبکہ چوتھا طبقہ اور تیسرے طبقے کا ایک حصّہ (سوشلسٹ و لبرل رجحانات والے) اسلامی رجیم کی تبدیلی کا شدید خواہاں ہے۔ عملاً اس وقت انتشار پھیلانے کی کوشش یہی لوگ کر رہے ہیں اور پہلے طبقے کی جائز معاشی شکایات کو ہائی جیک کرنا چاہتے ہیں، تاکہ مغربی مداخلت کے ذریعے نظام کو کمزور کیا جا سکے۔
تاہم یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ ایسے افراد بمشکل بیس فیصد بھی نہیں۔ اس لیے محض عوامی احتجاج کے ذریعے اسلامی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں، البتہ بیرونی مداخلت کے ذریعے عدم استحکام پیدا کیا جا سکتا ہے۔
والسّلام
سید جواد حسین رضوی
21 رجب المرجب، 1447 ہجری بوقت عشاء