جدید دور میں استعماری پروپیگنڈے سے بچاؤ
تحریر : سید آل حسنین
جدید دور میں استعماری پروپیگنڈا براہِ راست آپ کے گھر، آپ کے موبائل اور آپ کی سوچ پر حملہ آور ہے۔ اس “نرم جنگ” (Soft War) سے بچنے اور اپنے شعور کی حفاظت کرنے کے لیے ایک عام انسان کو چند عملی اور شعوری اقدامات کرنے کی ضرورت ہے:
1. معلومات کی تحقیق (اصولِ تبیّن)
قرآن کا اصول ہے کہ جب کوئی خبر پہنچے تو اس کی تحقیق کرو (سورہ الحجرات: 6)۔
عملی طریقہ: سوشل میڈیا پر کسی بھی جذباتی یا حیرت انگیز خبر کو شیئر کرنے سے پہلے اس کے ماخذ (Source) کو چیک کریں۔ استعمار اکثر “فیک نیوز” کے ذریعے نفرت اور مایوسی پھیلاتا ہے۔ ایک بیدار انسان کبھی سنی سنائی بات کا آلہ کار نہیں بنتا۔
2. الگورتھم (Algorithm) کی قید سے آزادی
سوشل میڈیا کے الگورتھم آپ کو وہی کچھ دکھاتے ہیں جو آپ دیکھنا چاہتے ہیں، جس سے انسان ایک “فکری حصار” (Echo Chamber) میں قید ہو جاتا ہے۔
بچاؤ: شعوری طور پر مختلف نقطہ نظر کو پڑھیں اور صرف تفریحی مواد کے بجائے علمی اور فکری مواد تلاش کریں۔ اگر آپ صرف سطحی چیزیں دیکھیں گے تو آپ کا شعور بھی سطحی ہو جائے گا۔
3. مرعوبیت کا خاتمہ (نفسیاتی مضبوطی)
جدید استعمار میڈیا کے ذریعے یہ باور کراتا ہے کہ مغرب کی تہذیب، ان کا لباس اور ان کا طرزِ زندگی ہی “ترقی” ہے۔
محفوظ رہنے کا طریقہ: اپنی اصل پہچان (Identity) اور اسلامی ورثے پر فخر کریں۔ جب انسان اپنے “اسلامِ ناب” کے نظریات پر مطمئن ہوتا ہے، تو وہ مادی چمک دمک سے مرعوب نہیں ہوتا۔ خود سازی (جس پر ہم نے پہلے بات کی) یہاں ڈھال کا کام کرتی ہے۔
4. میڈیا لٹریسی (Media Literacy)
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کون سا مواد آپ کے اخلاق اور نظریات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
فلٹر لگائیں: سوشل میڈیا پر ان صفحات اور لوگوں کو “ان فالو” کر دیں جو فحاشی، بے راہ روی، یا فرقہ وارانہ نفرت پھیلاتے ہیں۔ اپنی ڈیجیٹل فضا کو پاکیزہ رکھیں تاکہ آپ کی سوچ پراگندہ نہ ہو۔
5. وقت کا درست استعمال
استعمار کا ایک بڑا ہتھیار “وقت کا ضیاع” ہے تاکہ مسلمان نوجوان تعمیری کاموں کے بجائے لایعنی بحثوں اور گیمز میں الجھے رہیں۔
حل: ٹیکنالوجی کو صرف ضرورت کے تحت استعمال کریں اور باقی وقت مطالعہِ قرآن، تاریخ اور بامقصد گفتگو میں لگائیں۔ شعور تبھی بیدار ہوتا ہے جب دماغ کو سوچنے کا موقع ملے۔
6. “سوشل میڈیا” کو منبر بنانا
صرف دفاعی پوزیشن میں رہنا کافی نہیں، بلکہ حملہ آور پروپیگنڈے کا جواب دینا بھی ضروری ہے۔
آپ کا کردار: آپ ایک عام انسان ہوتے ہوئے بھی سچائی کی ایک پوسٹ شیئر کر کے یا کسی غلط بیانی کی تردید کر کے “حق کے سپاہی” بن سکتے ہیں۔ آپ کی ایک چھوٹی سی علمی بات کسی دوسرے کے شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
خلاصہ
جدید استعمار کے پروپیگنڈے سے بچنے کا بہترین طریقہ “بصیرت” ہے۔ جب انسان کے پاس ٹھوس علمی بنیاد (قرآن و اہلبیت کی روشنی میں) ہوتی ہے، تو میڈیا کا کوئی بھی طوفان اسے حق کے راستے سے نہیں ہٹا سکتا