زائرینِ اربعین پہ صیہونی و داعشی ملی بھگت سے حملے کا منصوبہ ناکام

کربلا کے اعلی حکام کے مطابق زائرین اربعین پر حملے کا صہیونی اور داعشی ناپاک منصوبہ ناکام بنادیا گیا۔
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق صوبہ کربلا کے گورنر نے اعلان کیا ہے کہ داعش اور صہیونی حکومت کی مشترکہ سازش کو بے نقاب کرکے اربعین حسینی کے زائرین کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناکام بنادیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، عراق کی سرکاری خبر رساں ایجنسی واع نے کہا کیا کہ کربلا کے گورنر نصیف جاسم خطابی نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ خفیہ ایجنسیوں نے کامیاب آپریشن کرکے زائرین پر حملہ کا منصوبہ ناکام بنادیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 22 دہشت گرد گرفتار کیے گئے جو دہشت گرد کارروائیاں کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے، جن میں زائرین کے راستوں میں بم دھماکے، سیکیورٹی فورسز اور موکبوں پر حملے، اور خاص طور پر جنوبی کربلا کے اجتماع گاہوں میں زائرین کو زہریلا طعام و مشروبات پیش کرنے کی کوشش شامل تھی۔
خطابی نے مزید کہا کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں میں کربلا-نجف شاہراہ پر واقع ایک حسینیہ کو نشانہ بنانے کی سازش بھی شامل تھی، جو سیکورٹی حکام کی کوششوں سے ناکام بنائی گئی۔
گورنر نے کہا کہ گرفتار شدگان نے اپنی داعش سے وابستگی تسلیم کی ہے جبکہ بعض گرفتار شدگان کا بیرونی اداروں سے بھی رابطہ تھا، جن میں سے ایک کا براہِ راست تعلق صہیونی حکومت سے تھا۔
