سورہء روم اور ایران سے متعلق ہمارا رویہ

تحریر: عادل مختار

ایران میں فسادات برپا ہونے کی خبریں خود فسادات سے گرم تر ہیں اور اس پر کچھ” حریت فکر ” کا ڈھنڈورا پیٹنے والے افراد تو شماتت کا مظاہرہ کر ہی رہے ہیں مگر ان کے علاوہ بعض خدا کے وہ نام لیوا بھی ہیں جو ان حالات سے لاتعلق دکھائی دیتے ہیں بلکہ کچھ وہ ہیں جو ایران کے ٹوٹنے کے خواب دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہے ہیں اور اس وقت میں سورہء روم کو دیکھتا ہوں تو اس کی ابتدائی آیات اس قسم کے لوگوں کے دعواے ایمان پر خندہ زن دکھائی دیتی ہیں۔

“بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الٓـمّٓ ۚ﴿۱﴾۱۔ الف ، لام ، میم۔

غُلِبَتِ الرُّوۡمُ ۙ﴿۲﴾۲۔ رومی مغلوب ہو گئے،

فِیۡۤ اَدۡنَی الۡاَرۡضِ وَ ہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ غَلَبِہِمۡ سَیَغۡلِبُوۡنَ ۙ﴿۳﴾

۳۔ قریبی ملک میں اور وہ مغلوب ہونے کے بعد عنقریب غالب ہو جائیں گے،

فِیۡ بِضۡعِ سِنِیۡنَ ۬ؕ لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ ؕ وَ یَوۡمَئِذٍ یَّفۡرَحُ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ۙ﴿۴﴾

۴۔ چند سالوں میں، پہلے بھی اور بعد میں بھی اختیار کل اللہ کو حاصل ہے، اہل ایمان اس روز خوشیاں منائیں گے

(مترجم: شیخ محسن نجفی)

چودہ سو برس قبل، مکہ کی گلیوں میں جب اہل توحید نے رومیوں کی فتح کی دعا کی، تو ان کے سامنے کوئی مسلکی کتاب نہ تھی، بلکہ خدا پرستی کا ایک آفاقی تصور تھا۔ رومی عیسائی تھے، مگر “اہلِ کتاب” تھے اور وحی کے امین تھے۔ دوسری طرف فارس کے آتش پرست تھے جن کے افکار مشرکینِ مکہ کی مادی سوچ کا عکس تھے۔ مگر

آج جب ایک کلمہ گو ریاست (ایران) وقت کے بدترین فرعون (ام ری کہ) اور عالمی دجال (اس را ئیل) کے مقابل سینہ سپر ہے، تو کچھ لوگ مسلکی عینک لگا کر فقط تماشا دیکھ رہے ہیں۔

یہ المیہ بھی عالم اسلام کے عجائبات میں سے کہ کلمہ گویوں کا ایک بڑا حصہ ایران کے خلاف استعماری طاقتوں (امریکہ و اسرائیل) کی پشت پناہی پر یا تو خاموش ہے یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر خوش ہے۔ یہ رویہ سورہ روم کی اس فکری اساس کی نفی ہے جہاں نظریاتی قربت (خدا پرستی) کو مادی یا مسلکی اختلاف پر فوقیت دی گئی تھی۔ اگر مشرکین مکہ کے مقابلے میں مسیحی یعنی رومی مسلمانوں کا انتخاب ہو سکتے تھے، تو آج صی ہونی ریاست کے مقابلے میں ایک کلمہ گو ریاست یعنی ایران مسلمانوں کی ترجیح کیوں نہیں؟ کم سے کم سورہ روم کی تلاوت کے بعد تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اگر ایک کلمہ گو اس وقت ایران کے زخموں پر نمک پاشی کر رہا ہے، تو وہ دراصل ابوجہل کے اس کیمپ میں کھڑا ہے جہاں مجوسیوں کی جیت پر مشرکین مکہ رقصاں ہیں۔

سورہ روم میں ایرانیوں اور رومیوں کی جنگ مادی مفادات سے زیادہ دو نظاموں کا ٹکراؤ تھی۔ آج ایران میں اٹھنے والے” مصنوعی فسادات” بنا بر بیرونی مداخلت (امریکہ و اسرائیل کی جانب سے) دراصل وہی قدیم استعماری چالیں ہیں جو حق کے مرکز کو کمزور کرنے کے لیے چلی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں ایران کے خلاف کھڑا ہونے سے ایک کلمہ گو یقینا اپنے سابقون الاولون صحابہ کرام رض کے مخالف کھڑا نظر آتا ہے۔

سورہ روم کہتی ہے: ”لِلّٰہِ الۡاَمۡرُ مِنۡ قَبۡلُ وَ مِنۡۢ بَعۡدُ”۔ جب مسلمان مادی طاقتوں (امریکہ/اسرائیل) کے رعب میں آ کر اپنے ہی بھائیوں کی مغلوبیت پر خوش ہوتے ہیں، تو وہ دراصل اس الہیٰ اختیار کو بھول جاتے ہیں جو شکست کو فتح میں بدلنے پر قادر ہے۔

قرآن نے پیشگوئی کی تھی کہ جب رومی جیتیں گے تو “اہلِ ایمان خوش ہوں گے”۔ یہ خوشی دراصل باطل کے غرور کے ٹوٹنے پر تھی۔ آج اگر اسرائیل کی جارحیت کے سامنے ایران کی مزاحمت کو مسلمان ممالک اپنی “سیاسی مصلحت” یا “مسلکی نفرت” کی وجہ سے نظر انداز کر رہے ہیں، تو وہ کس طرح قرآنی خوشی کے حقدار نہیں بن سکتے؟ لہذا ان آیات کا اہل اسلام کے لیے یہی پیغام ہے کہ اپنی خوشیوں اور غموں کا محور “مسلک” کے بجائے “اسلام اور کفر کا ٹکراؤ” بنائیں۔استعمار (ام ری کہ و اس رائی ل) کی خوشی میں اپنی خوشی تلاش کرنا کس طرح ایمان کی علامت قراد دیا جا سکتا ہے؟ کیا ایران پر یلغار پر خوش ہونے والے کلمہ گو اپنے گریبانوں میں جھانک کر معلوم کر سکتے ہیں کہ ان کی مسکراہٹیں کہیں ابو لہبی کس کے ساتھ تو نہیں جڑی ہیں؟

یہ بات بھی کس قدر حیرت ناک ہے کہ مکہ کے بے گانہء تہذیب و تمدن لوگوں کو معلوم تھا کہ شام کے میدانوں میں ہونے والی شکست کے اثرات مکہ کی معیشت پر بھی پڑیں گے، لیکن اس دور جدید کا یہ اعلی تعلیم یافتہ طبقہ یہ نہیں سمجھ پا رہا کہ اگر مزاحمت کا یہ قلعہ (ایران) گرا، تو ان کی عالی شان ریاستیں ریت کے گھروندوں کی طرح بکھر بھی جائیں گی۔

سورہ روم کی زندہ و تابندہ آیات محض قصہ پارینہ نہیں، بلکہ ایک عالمی سیاسی چارٹر ہیں۔ یہ آیات چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ حق اور باطل کی جنگ میں بے معرکہ رہنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ یا تو وحی اور توحید کے علمبرداروں کے ساتھ کھڑے ہونا ہو گا یا پھر استعمار کے ہاتھوں کھیلنا ہو گا اس کے علاوہ کوئی تیسری صورت نظر نہیں آتی۔

عادل مختار

11/01/2026

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں