پاکستان میں اربعین واک یا مشی کیوں نہ کی جائے؟

پاکستان میں اربعین واک یا مشی کیوں نہ کی جائے؟
تحریر: سید انجم رضا
جب سے اربعین واک شروع ہوئی ہے یہ روایتی جلوس کے نہ تو مقابل ہے اور نہ ہی اس کا بدل بلکہ تسلسل ہے اور گزشتہ کئی برس کی اربعین واکز اس بات کی گواہ ہیں کہ تقریبا پاکستان تمام نمایاں شہروں میں مشی اربعین مرکزی جلوسوں میں شمولیت کے لئے “مُکانی سفر” کی طرح ہے
٭ایک شہری کو جو حق آئین دے رہا ہے اس کو میں اور آپ مختلف “وجوہات” اسٹیلبش کرکے کیسے جواز بنارہے ہیں؟
٭جو حکومتی اقدامات ہمیشہ سے جاری مجالس و جلوس کے لئے مستعمل ہیں اب کیوں نہیں جاری رہ سکتے؟
٭جو جواز جاری و ساری جلوس ہائے عزاداری رکھتے ہیں ، بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ کیا جلوس ہائے عزاداری ( اگر آپ اس مرکزی جلوس میں شامل ہونے والے پیدل سفر کو جلوس ہی سمجھتے ہیں)
اب نئے جلوس ہائے عزاء ضروری نہیں ہوگئے؟
٭جب حکومتی اقدامات نئے لائسنس شدہ جلوسوں کے اجراء میں حوصلہ شکن اقدامات کریں گے اور تاخیری حربے استعمال کریں گے تو لوگ اپنا آئینی حق استعمال کیوں نہ کریں؟
آخر میں ایک جملہ معترضہ بہت احترام کے ساتھ عرض ہے
٭جلوس ہائے عزا اور مجالس عزاء صدیوں سے برصغیر پاک و ہند کے سُنی شیعہ اپنے اپنے انداز میں مل کر ادا کرتے آرہے ہیں سوائے چند تکفیری خارجیوں کے
٭ امن عامہ ، ٹریفک کے مسائل ، راستہ بند ہونے کے شکوے اس سماج میں کون کرتا ہے آپ کو بھی پتہ ہے
٭رہی بات عزاداری اور نمائش
جی ہاں! عزاداری ہے ہی ایسی عبادت جس کا اظہار ہے ،نمائش ہے ، لوگوں کو دکھانا ہے
لوگوں کو بتانا ہے کہ رسول خاتم ص کے نواسے، خانوادے اور اصحاب کے ساتھ ملوکیت کے جبر نے کیا ظلم کیا
یہ سب دکھاوا کرکے بتانا ضروری ہے
وگرنہ لوگ غدیر کی طرح اس کو بھی فراموش کردیں گے
