کیا مُعاملہ صرف سیاست کا ہے؟

تحریر:سید جواد حسین رضوی

پچھلے کئی برسوں سے محرّم الحرام میں کچھ خطباء و ذاکرین کی وجہ سے یہ بحث چھِڑ جاتی ہے کہ مجالسِ حُسین (ع) میں صرف علی علی(ع) یا حسین حسین (ع) ہونا چاہیے یا دیگر مسائل بھی زیر بحث آ سکتے ہیں۔ بعض افراد اس بحث کو انتہائی حکمتِ عملی سے اس تناظُر میں جلوہ گر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ دیگر مسائل سے مراد سیاست ہے۔

اس سلسلے میں یہ وضاحت لازم ہے کہ اصل نزاع یہ ہے کہ مجالسِ حُسینی سے ‌فضائل و مناقب و مصائب کے علاوہ دیگر مسائل زیرِ بحث آ سکتے ہیں یا نہیں۔ ایک گروہ ان موضوعات کے علاوہ دیگر مسائل کے ذکر کو درست نہیں سمجھتا۔ بالفاظِ دیگر آپ مجالس میں نماز و عبادت، اخلاقیات اور معاشرتی مسائل و شرعی احکام کو ڈسکس کریں گے تو تب بھی ان افراد کی نگاہوں میں یہ غلط کام ہے۔

مندرجہ بالا نکتہ مدِّ نظر رکھیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ہمارا مدّعا کیا ہے؟ ہم یہ کہتے ہیں کہ مجالس میں ہر طرح کے موضوعات زیر بحث آ سکتے ہیں۔ فضائل و مصائب تو لازمی طور پر بیان ہوتے ہیں، لیکن اگر خطیب یا ذاکر اپنے ذوق اور دلچسپی کی بنیاد پر دین سے متعلق کوئی بھی مسئلہ بیان کر رہا ہے تو ہماری نگاہ میں حرج نہیں بشرطیکہ وہ اس موضوع پر مہارت رکھتا ہو۔

جہاں تک سیاست کی بات ہے تو سیاست کو دین سے جدا سمجھنا دین سے دُشمنی کے مُترادف ہے، بقول علامہ اقبال سیاست سے دین کو جدا کر دیا جائے تو چنگیز خان اور ہٹلر پیدا ہوتے ہیں۔ لہذا سیاست کو قرآن و سُنّت اور معصومین ع کی سیرت سے بیان کرنا غلط نہیں ہے۔ البتہ ہم یہ نہیں کہتے کہ منبروں سے خبریں پڑھی جائیں جیسا کہ یہ لوگ جلوہ نمائی کرتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تحریکِ انصاف و نون لیگ و پیپلز پارٹی کی سیاست بیان کی جائے۔ البتہ جدید دور کے طاغوتوں کے مظالم بیان کئے جائیں جن کا طاغوت ہونا عُقلاء کے درمیان مُسلَّم ہو، نہ صرف جائز ہے بلکہ منبرِ حُسینی کی روح سے عین مطابقت رکھتا ہے۔ چنانچہ فلسطینیوں اور دیگر مستضعفینِ جہان کا ذکر کیا جائے اور استعماریت اور فاشزم کی مُذمّت کی جائے تو کوئی حرج نہیں۔

پس موضوعِ بحث کو جس طرح سے پیش کیا جا رہا ہے ویسا ہرگز نہیں ہے۔ جو افراد کہتے ہیں کہ مجلس میں فقط فضائل و مصائب پڑھے جائیں وہ لوگ سیاست کے علاوہ دیگر موضوعات کو بھی درست نہیں سمجھتے۔ ویسے یہ طبقہ پاکستان میں ہی پایا جاتا ہے وگرنہ دیگر مُمالک میں منبرِ حسینی ع سے ہر طرح کے موضوعات بیان ہوتے ہیں۔

خلاصہ یہ ہوا کہ ہر وہ موضوع جو مقصدِ قیامِ حسین(ع) اور عزاداریِ سیّدُ الشہداء(ع) کے اہداف سے مُطابقت رکھتا ہو اس کو منبرِ حُسینی سے بیان کرنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ مقصدِ قیامِ امام حُسین(ع) کے لئے ہماری تحاریر پڑھ سکتے ہیں جو ان موضوعات پر اس سے قبل تحریر کر چکے ہیں۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں