آئی ایس او پاکستان — شاندار ماضی، بہترین حال اور درخشاں مستقبل کی داستان
(۵۴ ویں یومِ تاسیس پر خصوصی تحریر)
تحریر: سید انجم رضا
امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان (آئی ایس او) کا ۵۴ واں یومِ تاسیس محض ایک تنظیمی سنگِ میل نہیں بلکہ ایک ایسی تحریک کے تسلسل کا جشن ہے جس نے نصف صدی سے زائد عرصے میں ملتِ جعفریہ پاکستان کے فکری، دینی، سماجی اور تنظیمی تشخص کو مضبوط بنیادیں فراہم کیں۔ یہ تنظیم نوجوانوں کی تربیت گاہ، شعور کی درسگاہ اور عملی میدان میں قیادت پیدا کرنے والا ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوئی ہے۔
آئی ایس او کا قیام ایسے وقت میں عمل میں آیا جب ملتِ جعفریہ کو ایک منظم اور باوقار پلیٹ فارم کی شدید ضرورت تھی۔ اس خلا کو پر کرنے کے لئے اس تنظیم نے نہایت حکمت، بصیرت اور استقامت کے ساتھ اپنا سفر شروع کیا۔ ابتدائی دنوں سے ہی اس کا مقصد واضح تھا
نوجوانوں کو مکتبِ اہل بیتؑ سے وابستہ کرنا، ان میں دینی شعور پیدا کرنا، اور انہیں ملت و امت کے وسیع تر مفادات کے لئے تیار کرنا۔
تنظیم کے شاندار ماضی کا ایک روشن پہلو یہ ہے کہ اس نے ملت کے بزرگ قائدین کے ساتھ مل کر اتحاد و تنظیم کی عملی جدوجہد کی۔ قائد ملت مرحوم علامہ مفتی جعفر حسین اعلیٰ اللہ مقامہ کے دستِ بازو بن کر آئی ایس او نے ملت کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنے، ان کے حقوق کے تحفظ اور ان کی نمائندگی کے لئے بھرپور کردار ادا کیا۔ یہی وہ دور تھا جب تنظیم نے اپنی نظریاتی بنیادوں کو مضبوط کیا اور ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کی۔
بعد ازاں شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت میں آئی ایس او کو ایک نئی انقلابی سمت ملی۔ اس دور میں تنظیم نے نہ صرف داخلی سطح پر اپنی فعالیت کو وسعت دی بلکہ قومی اور بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کی۔ شہید قائد کی فکر سے رہنمائی لیتے ہوئے آئی ایس او نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کو اپنی ذمہ داری سمجھا اور ہر قسم کے فکری و نظریاتی حملوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ راہِ عارف حسینی پر گامزن رہنا آج بھی تنظیم کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے۔
آئی ایس او کے بانی شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شخصیت اس تنظیم کی روح ہے۔ انہوں نے جس فکری بنیاد پر اس تنظیم کی داغ بیل ڈالی، وہ آج بھی اسی شدت اور خلوص کے ساتھ جاری ہے۔ ان کے افکار کے مطابق تنظیم نے ہمیشہ “خطِ امام” اور “خطِ رہبری” کو اپنی سمت بنایا۔
انقلاب اسلامی ایران کی ابتدا سے ہی آئی ایس او نے اس کی بھرپور حمایت کی اور رہبر کبیر امام خمینیؒ اور شہید رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی کی رہبری کو تسلیم کرتے ہوئے پاکستان میں نظریہ ولایتِ فقیہ کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ موجودہ دور میں بھی تنظیم رہبر معظم آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای حفظہ اللہ کی اطاعت میں اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور ان کے ساتھ تجدیدِ عہدِ وفا کرتی ہے۔
تنظیم کا موجودہ کردار بھی نہایت جامع اور ہمہ جہت ہے۔ آئی ایس او نے نوجوانوں کی فکری و عملی تربیت کے لئے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ تعلیمی اداروں میں یومِ حسینؑ، یومِ علیؑ اور دیگر دینی مناسبات کا انعقاد، ماہانہ درسِ قرآن و درسِ نہج البلاغہ، اسٹڈی سرکلز، فکری نشستیں اور کوچنگ سنٹرز اس کی نمایاں سرگرمیوں میں شامل ہیں۔ ان اقدامات کے ذریعے نوجوانوں کو نہ صرف دینی علوم سے آراستہ کیا جاتا ہے بلکہ انہیں جدید دور کے فکری چیلنجز، خصوصاً الحاد، لبرل ازم اور مغربی افکار کا مدلل جواب دینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔
مزید برآں، آئی ایس او نے عزاداری کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ جلوس ہائے عزاداری میں نمازِ باجماعت کا اہتمام، امامیہ ماتمی دستوں کی تشکیل، نظم و ضبط کی مثال قائم کرنا اور شعائرِ حسینیؑ کے تحفظ کو یقینی بنانا تنظیم کی عملی فعالیت کا ثبوت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ملت کے اجتماعی مسائل میں بھی تنظیم ہمیشہ پیش پیش رہی ہے۔
بھکر کنونشن، اسلام آباد کنونشن اور قرآن و سنت کانفرنس جیسے بڑے اجتماعات میں آئی ایس او نے ہراول دستے کا کردار ادا کیا۔ ان پلیٹ فارمز کے ذریعے ملت کے حقوق، مسائل اور مطالبات کو مؤثر انداز میں پیش کیا گیا اور ایک متحد آواز کو فروغ دیا گیا۔ یہ تمام سرگرمیاں اس بات کی دلیل ہیں کہ آئی ایس او محض ایک طلبہ تنظیم نہیں بلکہ ایک مکمل فکری و عملی تحریک ہے۔
مستقبل کے حوالے سے آئی ایس او پاکستان نہایت واضح اور مضبوط وژن رکھتی ہے۔ نوجوانوں کو ظہورِ امام مہدیؑ کے لئے تیار کرنا، ان میں دینی غیرت اور اجتماعی شعور پیدا کرنا، اور انہیں ملت و امت کی قیادت کے لئے تیار کرنا اس کے بنیادی اہداف ہیں۔ اسی سلسلے میں ۱۳ جون ۲۰۲۶ کو مینارِ پاکستان لاہور میں “شہید امت کانفرنس” کا انعقاد ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، جہاں اتحادِ امت اور فکری بیداری کا پیغام عام کیا جائے گا۔
آئی ایس او پاکستان کا ۵۴ سالہ سفر اس حقیقت کا مظہر ہے کہ جب ایک تنظیم خلوصِ نیت، واضح نظریہ اور مخلص قیادت کے ساتھ میدان میں اترتی ہے تو وہ نہ صرف اپنے وجود کو منواتی ہے بلکہ معاشرے پر گہرے اور دیرپا اثرات بھی مرتب کرتی ہے۔ آج آئی ایس او ایک درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں ماضی میں مضبوطی سے پیوست ہیں، شاخیں حال میں سایہ فراہم کر رہی ہیں، اور اس کا مستقبل نئی نسل کے ہاتھوں مزید سرسبز و شاداب ہونے کی امید دلا رہا ہے۔
یہی عزم، یہی تسلسل اور یہی نظریاتی وابستگی آئی ایس او پاکستان کو ایک روشن اور تابناک مستقبل کی طرف لے جا رہی ہے۔