شہیدِ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کے حقیقی پیروکار۔۔ شہید ڈاکٹر محمد علی نقویؒ

تحریر: سید انجم رضا

اسلامی تحریکوں کی تاریخ میں بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو صرف ایک فرد نہیں بلکہ ایک فکر، ایک راستہ اور ایک عہد کی علامت بن جاتی ہیں۔ پاکستان کی سرزمین پر ڈاکٹر محمد علی نقوی انہی درخشاں شخصیات میں سے ایک تھے۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت ڈاکٹر اور منظم سماجی رہنما تھے بلکہ فکری، انقلابی اور عملی اعتبار سے اسلامی انقلاب کے نظریات کے سچے ترجمان بھی تھے۔ ان کی زندگی اس بات کی عملی مثال تھی کہ آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت اور ولایتِ فقیہ کے نظریے سے حقیقی وابستگی کس طرح انسان کو خدمت، بصیرت اور قربانی کے راستے پر استوار کرتی ہے۔

فکری وابستگی اور نظریاتی شعور

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی شخصیت کی بنیاد گہری فکری بصیرت پر قائم تھی۔ انہوں نے اسلامی انقلاب ایران کو محض ایک سیاسی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے امتِ مسلمہ کی بیداری اور عزتِ نفس کی علامت سمجھا۔
ان کی سوچ میں امام روح اللہ خمینی کے افکار اور بعد ازاں رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ ولایتِ فقیہ کا نظام دراصل اسلامی معاشرے کی فکری و عملی رہنمائی کا ضامن ہے اور یہی نظام امت کو استعمار اور استکبار کے مقابلے میں مضبوط بناتا ہے۔

اسی بنا پر انہوں نے پاکستان میں نوجوانوں کے اندر انقلاب اسلامی کی فکر، مزاحمت کے جذبے اور اسلامی تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپور جدوجہد کی۔

رہبرِ معظم کی قیادت سے عملی وفاداری

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی زندگی کا ایک نمایاں پہلو یہ تھا کہ وہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت کو صرف نظریاتی طور پر قبول نہیں کرتے تھے بلکہ اسے اپنی عملی زندگی کا محور سمجھتے تھے۔
وہ بارہا اس بات پر زور دیتے تھے کہ اسلامی تحریکوں کی کامیابی کے لیے بصیرت، نظم اور قیادت سے وفاداری لازمی ہے۔

انہوں نے نوجوان نسل کو یہ پیغام دیا کہ اگر امتِ مسلمہ کو عزت، استقلال اور وحدت حاصل کرنی ہے تو اسے اسلامی قیادت کے گرد منظم ہونا ہوگا۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی تقریروں، تحریروں اور عملی سرگرمیوں میں رہبرِ معظم کی فکر اور پیغام نمایاں طور پر جھلکتا تھا۔

نوجوان نسل کی تربیت اور فکری بیداری

شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی جدوجہد کا سب سے اہم میدان نوجوان نسل تھی۔ وہ سمجھتے تھے کہ اگر نوجوانوں کو صحیح فکری بنیادیں فراہم کی جائیں تو وہ امت کے مستقبل کو بدل سکتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے انہوں نے مختلف تنظیمی و تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے نوجوانوں میں شعور، خود اعتمادی اور دینی وابستگی کو فروغ دیا۔

وہ نوجوانوں کو یہ باور کراتے تھے کہ اسلامی انقلاب صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی پیغام ہے جس کا مقصد ظلم و استکبار کے خلاف مزاحمت اور عدل و انصاف کا قیام ہے۔

شہادت: وفاداری کی آخری منزل

اسلامی تحریکوں کی تاریخ گواہ ہے کہ جو شخص سچائی اور حق کے راستے پر ثابت قدم رہتا ہے اسے بالآخر قربانی کی منزل سے بھی گزرنا پڑتا ہے۔
7 مارچ 1995ء کو ڈاکٹر محمد علی نقوی کو دشمنانِ اسلام نے دہشت گردی کی ایک کارروائی میں شہید کر دیا۔ ان کی شہادت دراصل اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ اپنے نظریات اور اپنے رہبر کے پیغام کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرتے تھے۔

ان کی شہادت نے پاکستان میں ایک نئی فکری بیداری کو جنم دیا اور ہزاروں نوجوانوں کے دلوں میں مزاحمت اور وفاداری کے جذبے کو مزید مضبوط کیا۔

فکری میراث اور موجودہ نسل کی ذمہ داری

آج جب ہم شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو ہمیں ایک واضح پیغام ملتا ہے:
ایمان، بصیرت اور قیادت سے وفاداری کسی بھی اسلامی تحریک کی کامیابی کی بنیاد ہوتی ہے۔

ان کی فکری میراث ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ رہبرِ معظم آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی قیادت میں اسلامی مزاحمت کا پیغام صرف ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری امت کے لیے امید اور استقامت کا چراغ ہے۔

لہٰذا آج کی نوجوان نسل کی ذمہ داری ہے کہ وہ شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی فکر، ان کے عزم اور ان کی قربانی کو مشعلِ راہ بنائے۔ اگر ہم ان کے راستے پر چلتے ہوئے علم، شعور اور عملی جدوجہد کو اپنائیں تو یقیناً ایک ایسا معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں جو عدل، عزت اور اسلامی اقدار کا حقیقی مظہر ہو۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں