علما، سادگی اور عوامی رابطہ — ایک فکری جائزہ

تحریر: ابو راحل مصوررضا

آج جب محرم الحرام شروع ہوا تو یہ بھی دیکھا گیا کہ علما کا پروٹوکول ہو یا ان کی عام زندگی کا رہن سہن، وہ ایک ایسی صورت اختیار کر چکے ہیں گویا کوئی جنت سے کچھ دیر کے لیے جہنم کے دورے پر آیا ہو، اور بے چاری عوام ان میں تقویِٰ الٰہی تلاش کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔

اگر کوئی غیر عالم ہمارے خواص پر تنقید کرتا ہے تو ہمارے فتوٰی ساز ادارے، یا بالفاظِ دیگر دین کی کم سطحی تشریحات کا سہارا لے کر اس جائز تنقید کو ایک لمحے میں اپنے سے الگ کر دیتے ہیں۔

پاکستانی علما اس وقت مختلف قسم کی تنقید اور دباؤ کی زد میں ہیں۔ شیعہ مکتبِ فکر کی اکثریت بھی تمام علما کو اپنا مکمل نمائندہ نہیں سمجھتی۔ بعض علما کے بارے میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ عملی سماجی خدمت یا واضح نتائج کی فراہمی کے بجائے آپس کے اختلافات اور بحث و مباحثے میں زیادہ مصروف رہتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بعض افراد کے مالی حالات میں نمایاں تبدیلی آئی ہے، جس کی درست یا غلط نوعیت کا فیصلہ صرف مستند ریکارڈ اور باقاعدہ آڈٹ کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔

البتہ قم اور نجف کے وہ علما جو فقیر منش، درویش صفت اور سیر و سلوک کے حامل ہیں، یقیناً اس عمومی بحث سے مستثنیٰ سمجھے جاتے ہیں۔

ہمارے استادِ شفیق آغا جعفر نقوی مرحوم (کراچی) ہر منگل اپنی ذاتی جیب سے خرچ کرکے ٹیکسی کے ذریعے درس دینے آیا کرتے تھے۔ اس کے مقابلے میں آج بعض علما کے بارے میں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ اگر انہیں لینے آنے میں تاخیر ہو جائے تو ناراضی یا دیگر شکایات سامنے آ جاتی ہیں، اور بعض حضرات مخصوص طرزِ زندگی اور سہولیات کے بغیر گھر سے باہر نکلنے کو ترجیح نہیں دیتے۔

اسی طرح کچھ علاقوں میں، جہاں بڑی تعداد میں مومنین آباد ہیں لیکن بنیادی سہولیات نسبتاً کم ہیں، وہاں نامور علما کی مستقل موجودگی کم دکھائی دیتی ہے۔ اکثر علما زیادہ تر پوش سوسائٹیز میں رہائش اختیار کر چکے ہیں اور ان کے عوامی میل جول میں بھی واضح فاصلہ محسوس کیا جاتا ہے، یہاں تک کہ بعض مساجد میں ان کی باقاعدہ موجودگی بھی کم نظر آتی ہے، جس سے عوام اور علما کے درمیان دوری کا احساس بڑھتا ہے۔

جبکہ دوسری طرف جب ان کی مجالس یا خطابات کا ذکر آتا ہے تو آغا بہجتؒ (قم) جیسے اکابرین کی مثالیں دی جاتی ہیں، جو اسی سادگی کے ماحول میں رہتے ہوئے عام لوگوں کے درمیان مسجد میں نماز ادا کرتے تھے اور عوام کے ساتھ جڑے رہتے تھے۔

یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ بعض ایسی سوسائٹیز میں جہاں علما نے سکونت اختیار کی ہے، وہاں ان کے گھروں کے دروازے درس و تدریس کے لیے باقاعدگی سے کھلے نہیں رہتے، اور نہ ہی گھروں میں حسینیہ طرز کی وہ علمی فضا نظر آتی ہے جیسی روایت نجف و قم کے قدیم علما کے ہاں پائی جاتی تھی، جہاں گھر اور حجرے بھی علمی نشستوں کا حصہ ہوتے تھے۔

یوں بعض اوقات یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ دینی گفتگو زیادہ تر خطابات اور اجتماعات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے، جبکہ روزمرہ زندگی میں سادگی اور درویشی کا عملی تسلسل کم ہوتا جا رہا ہے۔

بزرگوں میں اگر کسی کو یاد ہو تو آغا جعفر نقوی مرحوم (کراچی) کی وہ لکڑی کی تخت، جس پر وہ بیٹھ کر درس دیا کرتے تھے، یا دیگر شہداء جیسے شہید علامہ حسن ترابیؒ (کراچی) کی وہ سادگی کہ وہ صبح و شام اپنے گھروں میں یا باہر فرش پر جوانوں کے درمیان بیٹھا کرتے تھے۔ گزرا ہوا زمانہ اس بات کا گواہ ہے کہ ملت ایک فکری اور عملی امتحان سے گزر رہی ہے، اور اس میں بہتری اور اصلاح کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

تاکہ قوم و ملت کے جوانوں کو عملی نمونے، شخصی و ادارتی شکل میں فراہم کیے جا سکیں اور کچھ بہتری کی صورت واضح ہو سکے۔ آج ہم انقلاب کے اوائل دور کے ان خدمت گاروں کو یاد کر کے شدید دُکھی ہوتے ہیں۔ ضرور اس امر کی ہے کہ منقطع شدہ روابط کو بحال کیا جائے اور پیش رفت کو وہیں سے جوڑا جائے جس کے لیے صاحبِ کردار اور درویشیت اختیار کرنا بہت ضروری ہے، کیونکہ کردار ہی معاشرے کو جِلا دیتا ہے اور یہ ذمہ داری علما پر بہت زیادہ عائد ہوتی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں