عاشور،مزاحمت اور آزادی کا استعارہ

عاشور محض اسلامی تاریخ کا ایک دن نہیں بلکہ حق و باطل، عدل و ظلم، صداقت و فریب کے درمیان کھینچی گئی وہ دائمی لکیر ہے جو ہر دور کے انسان کو اپنا مقام متعین کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ کربلا کا واقعہ چودہ سو برس پہلے پیش آیا، مگر اس کی معنویت وقت کے ساتھ مدھم نہیں ہوئی بلکہ ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید روشن اور واضح ہوتی چلی گئی ہے۔

10 محرم 61 ہجری کو میدانِ کربلا میں جو معرکہ برپا ہوا، وہ دراصل اقتدار اور اصول کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ تھا۔ ایک طرف یزیدی طاقت تھی جس کے پاس حکومت، فوج اور وسائل تھے، اور دوسری جانب امام حسینؑ تھے جن کے پاس سچائی، کردار اور حق کا پرچم تھا۔ تاریخ نے ثابت کیا کہ طاقت وقتی ہوسکتی ہے مگر حق کی آواز ابدی ہوتی ہے۔

آج جب ہم عاشور کو یاد کرتے ہیں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کربلا کا پیغام ہمارے موجودہ دور کے لیے کیا ہے؟ کیا عاشور صرف آنسوؤں، مجالس اور جلوسوں کا نام ہے یا یہ ایک ایسی فکری تحریک بھی ہے جو انسان کو ظلم کے خلاف کھڑے ہونے اور حق کا ساتھ دینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے؟

ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جہاں ناانصافی، معاشرتی عدم مساوات، جھوٹ، کرپشن اور انسانی حقوق کی پامالی مختلف شکلوں میں موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں عاشور ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خاموشی ہمیشہ غیر جانبداری نہیں ہوتی، بعض اوقات خاموشی ظلم کی تائید بن جاتی ہے۔ امام حسینؑ نے اپنے عمل سے یہ درس دیا کہ باطل کے سامنے سر جھکانے سے بہتر ہے کہ انسان حق کے لیے قربانی دے۔

عاشور کا ایک اہم پیغام انسانی وقار، آزادی اور خودداری کا بھی ہے۔ کربلا کے میدان میں امام حسینؑ نے انسان کو یہ شعور دیا کہ عزت اور اصولوں کی حفاظت زندگی سے بھی زیادہ قیمتی ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا یہ اعلان آج بھی دنیا بھر کے حریت پسند انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے کہ ذلت کی زندگی سے عزت کی موت بہتر ہے۔

لیکن کربلا کو صرف ایک تاریخی واقعہ سمجھ لینا اس کے پیغام کو محدود کر دینا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ کربلا آج بھی ایک زندہ صدا ہے جو ہر دور کے انسان کو پکارتی ہے کہ کیا کوئی ہے جو حق، انصاف اور آزادی کے راستے پر چلنے کے لیے آمادہ ہو؟ دنیا بدل گئی، سلطنتوں کے نام بدل گئے، حکمرانوں کے چہرے بدل گئے، مگر حق و باطل کی کشمکش ختم نہیں ہوئی۔ آج بھی طاقت کے ایوانوں میں یزیدی فکر کے نمائندے موجود ہیں اور آج بھی مظلوم اقوام اور محکوم انسان حسینؑ کے قافلے کی یاد تازہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

رات کی خاموشیوں میں جب تاریخ کے اوراق پلٹے جاتے ہیں تو کربلا کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ حضرت زینبؑ کے صبر و استقامت کی گونج، امام سجادؑ کے حوصلے کی روشنی اور نیزے کی نوک پر بلند قرآن کا منظر آج بھی اہلِ ضمیر کو یہ پیغام دیتا ہے کہ حق کو وقتی طور پر دبایا تو جا سکتا ہے، شکست نہیں دی جا سکتی۔ کربلا ہر دور میں ظلم کے مقابلے میں حوصلے، عزیمت اور مزاحمت کی علامت بن کر ابھرتی ہے۔

کربلا صرف شہادت کا نام نہیں بلکہ ایک ایسی انقلابی قوت کا نام ہے جو جب بیدار ہوتی ہے تو زمانے کے جمود کو توڑ دیتی ہے۔ یہ انسانوں کے دلوں میں ایسا حوصلہ پیدا کرتی ہے جو ظلم کے ہتھیاروں، جبر کی طاقتوں اور خوف کی دیواروں کو خاطر میں نہیں لاتا۔ کربلا کا پیغام یہ ہے کہ اصولوں پر قائم رہنے والا انسان موت سے خوف زدہ نہیں ہوتا بلکہ موت کو بھی اپنے مقصد کی سربلندی کا وسیلہ بنا لیتا ہے۔

آج اگر ہم اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو فلسطین کی سرزمین پر غزہ کے نہتے عوام کی استقامت میں کربلا کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جہاں شدید بمباری، بھوک، محاصرے اور بے پناہ جانی قربانیوں کے باوجود اپنے حقِ حیات اور حقِ آزادی سے دستبردار ہونے سے انکار کیا جا رہا ہے۔ لبنان میں مزاحمت کی تاریخ ہو، کشمیر میں آزادی کی جدوجہد ہو یا دنیا کے دیگر خطوں میں خودمختاری کے لیے جاری تحریکیں، ہر جگہ ایک ہی پیغام سنائی دیتا ہے کہ عزت، خودداری اور آزادی کی قیمت قربانی سے ادا کی جاتی ہے۔

اسی طرح ایران پر حالیہ مسلط کردہ امریکی و اسرائیلی جنگ کے دوران بھی دنیا نے دیکھا کہ ایران نے اپنے قومی وقار، خودمختاری اور آزادی پر سمجھوتہ کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا۔ اس راہ میں اسے بھاری جانی اور مادی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، اعلیٰ عسکری قیادت، جوہری سائنس دانوں اور عام شہریوں نے قربانیاں پیش کیں، مگر ایرانی قوم اور قیادت نے سرِ تسلیم خم کرنے کے بجائے استقامت، جرات اور عزم کا مظاہرہ کیا۔ یہ وہی حسینی فکر ہے جو انسان کو سکھاتی ہے کہ عزت اور آزادی کی حفاظت کے لیے قربانی دینا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

فلسطین کے لہو رنگ افق سے لے کر لبنان کی سنگلاخ وادیوں تک، کشمیر کی بے صدا فریادوں سے لے کر ایران کی مزاحمتی تاریخ تک، آج بھی کربلا کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ آج بھی وہی معرکہ برپا ہے؛ ایک طرف طاقت، جبر، استبداد اور تسلط کی خواہش ہے اور دوسری طرف حق، آزادی، خودمختاری اور انسانی وقار کا پرچم۔ فرق صرف اتنا ہے کہ نام بدل گئے ہیں، مگر کردار وہی ہیں اور معرکہ بھی وہی ہے۔

کربلا نے ہمیں سکھایا تھا کہ نیزے اور تلواریں ہمیشہ فتح کی ضمانت نہیں ہوتیں، اصل فتح استقامت، یقین اور مقصد کی سچائی کی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی مزاحمت کی تمام تحریکوں کی فکری ماں اور آزادی کے تمام متوالوں کی روحانی پناہ گاہ محسوس ہوتی ہے۔ جب بھی کوئی قوم ظلم کے سامنے جھکنے سے انکار کرتی ہے، جب بھی کوئی مظلوم اپنے حق کے لیے ڈٹ جاتا ہے، جب بھی کوئی انسان عزت کو زندگی پر ترجیح دیتا ہے، وہاں کربلا اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ زندہ نظر آتی ہے۔

کربلا ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ حق کی قوت کا انحصار تعداد، اسلحے یا وسائل پر نہیں بلکہ ایمان، یقین اور استقامت پر ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کربلا آج بھی جابر قوتوں کے لیے ایک خوف اور مظلوموں کے لیے امید کا استعارہ ہے۔ وہ تختوں کو لرزا سکتی ہے، زمانوں کا رخ موڑ سکتی ہے اور انسان کو یہ یقین عطا کر سکتی ہے کہ اگر مقصد حق ہو تو قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔

آج کے نوجوانوں کے لیے بھی عاشور میں ایک بڑا سبق موجود ہے۔ یہ سبق کردار سازی، سچائی، دیانت، استقامت اور مقصدیت کا ہے۔ کربلا ہمیں سکھاتی ہے کہ حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، اگر انسان اپنے اصولوں پر قائم رہے تو وہ وقتی شکست کے باوجود تاریخ کا فاتح بن جاتا ہے۔

عاشور خواتین کے کردار کی عظمت کا بھی روشن باب ہے۔ حضرت زینبؑ نے جس جرات، بصیرت اور استقامت کے ساتھ کربلا کے پیغام کو زندہ رکھا، وہ اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ نظریات کی حفاظت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ میدانِ فکر و شعور میں بھی کی جاتی ہے۔ آج کی عورت کے لیے بھی سیدہ زینبؑ کی سیرت حوصلے، وقار اور قیادت کا عظیم نمونہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عاشور ایک دن نہیں، ایک فکر ہے؛ ایک واقعہ نہیں، ایک مسلسل پیغام ہے۔ جب تک دنیا میں ظلم کے خلاف مزاحمت اور حق کے لیے جدوجہد زندہ رہے گی، کربلا زندہ رہے گی۔ جب تک انسان عزت، انصاف اور سچائی کو اپنا شعار بنائے گا، حسینؑ کا نام روشنی کا استعارہ بنا رہے گا۔

آج کا عاشور ہم سے صرف یہ مطالبہ نہیں کرتا کہ ہم کربلا کو یاد کریں، بلکہ یہ بھی چاہتا ہے کہ ہم کربلا کو سمجھیں، اس کے پیغام کو اپنی زندگیوں میں اتاریں اور اپنے کردار سے یہ ثابت کریں کہ ہم حق، عدل اور انسانیت کے اُس قافلے کے مسافر ہیں جس کی قیادت امام حسینؑ نے کی تھی۔

سلام ہو امامِ حریت، سیدالشہداء حضرت امام حسینؑ پر؛ سلام ہو کربلا کی شیردل خاتون حضرت زینب کبریٰؑ کے صبر، بصیرت اور استقامت پر؛ سلام ہو راہِ حق میں اپنا سب کچھ نچھاور کر دینے والے شہدائے کربلا پر؛ اور سلام ہو اس فکرِ حسینی پر جو ہر دور کے اندھیروں میں انسانیت کے لیے چراغِ ہدایت بن کر روشن رہتی ہے۔

سلام ہو اُن قافلہ سالارانِ حق پر جو ہر عہد میں کربلا کے پیغام کو زندہ رکھتے ہیں، سلام ہو اُن مظلوموں پر جو ظلم کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے سے انکار کرتے ہیں، سلام ہو اُن مجاہدوں پر جو آزادی، خودداری اور انسانی وقار کے تحفظ کے لیے میدانِ عمل میں ڈٹے رہتے ہیں، اور سلام ہو اُن تمام پیروکارانِ حسینؑ پر جو یزیدانِ وقت کے مقابل حق، صداقت اور عدل کا پرچم بلند کیے ہوئے ہیں۔

فلسطین کے محصور بچوں سے لے کر لبنان کے استقامت شعار فرزندوں تک، کشمیر کے حق طلب انسانوں سے لے کر ایران کی مزاحمتی قوم تک، جہاں کہیں بھی ظلم کے مقابل حق کا عَلَم بلند ہے، جہاں کہیں بھی عزت و آزادی کی خاطر قربانی دی جا رہی ہے، وہاں کربلا کی روشنی موجود ہے، وہاں حسینؑ کا پیغام زندہ ہے اور وہاں عاشور کی روح سانس لے رہی ہے۔

یہی عاشور کا پیغام ہے، یہی مزاحمت کی روح ہے اور یہی آزادی کا وہ استعارہ ہے جو کربلا سے طلوع ہوا، صدیوں سے انسانیت کے سفر کو منور کر رہا ہے اور قیامت تک حق کے متلاشیوں کو راستہ دکھاتا رہے گا

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں