پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی
از قلم:ڈاکٹر زوّار حُسین
مخلص اُستاد، متقی انسان، منکسر المزاج عالمِ دین اور علم و کردار کی روشن مثال
ڈھونڈوں گے اگر ملکوں ملکوں، ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
27 فروری 2014 یومِ شہادت کہ جس دن ھمارے شفیق و مہربان اُستادِ محترم پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی ھمیں اور اپنے تمام چاہنے والوں کو روتا چھوڑ گئے جن کی علمی خدمات ، دُعائیں، یادیں اور باتیں رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی کہ انہیں تسلسلِ حق و باطل کے معرکۂ کرب و بلا میں بے جرم و خطا بے دردی سے شہید کر ڈالا- آپ تعلیمی مراکز میں تدریس کے ساتھ ساتھ ٹی وی اور ریڈیو کے پروگراموں میں دین اسلام کی تعلیمات کے مطابق مذہبِ حقا کی ترویج میں تادمِ شہادت مصروف عمل رہے کہ ساری زندگانی وقفِ تعلیم و تربیت اور ترویج و اشاعت کے نام کر ڈالی بقولِ شاعر جنابِ کیف بنارسی:
ایسا کسی نے کیفِ مُجسّم بنا دیا
پھر کیف ہی کے نام سے منسوب ھو گئے
شہادت محض ایک سانحہ نہیں، ایک پیغام ھے۔ قرآن مجید اعلان کرتا ہے کہ جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل کیے جائیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے۔ یہی وہ ابدی معیار ہے جس کے تحت ملت کے شہداء ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی بھی انہی زندہ و جاوید شخصیات میں سے ایک تھے جن کی علمی، اخلاقی اور روحانی موجودگی آج بھی شاگردوں کے اذہان اور دلوں میں سانس لیتی محسوس ہوتی ہے۔
وہ ایک ماہرِ تعلیم، عالمِ دین، مدیرِ تعلیمی بورڈ اور صاحبِ منبر خطیب تھے۔ نحیف و نزار جسم مگر فولادی عزم، چہرے پر مسکراہٹ، لہجے میں نرمی، کردار میں استقامت۔ ان کی شخصیت سادگی اور وقار کا حسین امتزاج تھی۔ بارہ برس گزر گئے، مگر ان کی یاد کا چراغ بجھا نہیں۔ سوال یہ نہیں کہ وہ کون تھے، سوال یہ ہے کہ ہم ان کے جد کی میراث کے ساتھ کیا کر رہے ہیں۔
قرآن ہمیں عدل کا حکم دیتا ہے اور تنبیہ کرتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف سے نہ روکے۔ یہی وہ قرآنی اصول ہے جو آج ہمارے اجتماعی رویّوں کا محاسبہ کرتا ہے۔ جب کوئی عالم، استاد یا شہری دہشت گردی کا نشانہ بنتا ہے تو جذبات کا بھڑک اٹھنا فطری ہے، لیکن بغیر تحقیق کسی فرد یا گروہ کو مجرم قرار دے دینا شریعت اور قانون دونوں کے منافی ہے۔ اسلام میں جرم فرد کرتا ہے، فیصلہ بھی فرد کے خلاف ہوتا ہے۔ اجتماعی نفرت اور عمومی الزام تراشی نہ عدل ہے نہ حکمت۔
یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ جدید دنیا میں دہشت گردی ایک پیچیدہ مظہر بن چکی ہے۔ عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے تحقیقی اداروں کی رپورٹس کے مطابق گزشتہ دہائیوں میں فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، اور ان واقعات میں اکثر اوقات مقامی و بین الاقوامی عناصر، خفیہ نیٹ ورکس اور نظریاتی انتہاپسندی باہم جڑی ہوئی پائی گئی۔ پاکستان بھی اس آگ سے محفوظ نہ رہ سکا۔ ہزاروں جانیں، جن میں علما، اساتذہ، ڈاکٹرز، انجینئرز، طلبہ، عام شہری اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے شامل ہیں، اس لہر کی نذر ہوئیں۔ ان اعداد و شمار کے پیچھے صرف اعداد نہیں، بکھرے ہوئے گھر، یتیم بچے، بیوہ خواتین، رنجیدہ بھائی، درد رسیدہ بہنیں، غم زدہ باپ، دکھیاری ماں اور ٹوٹے ہوئے بے شمار خواب ہیں۔
پروفیسر تقی ہادی نقوی کی شہادت کو اگر ہم صرف ایک فرقے یا ایک گروہ کے خلاف نفرت کے نعرے تک محدود کر دیں تو یہ ان کی علمی عظمت اور قرآنی فکر کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ انہوں نے عمر بھر تعلیم دی، شعور دیا، دلیل دی۔ کیا ان کی یاد کا تقاضا یہ ہے کہ ہم دلیل چھوڑ کر الزام کی راہ اختیار کریں۔ کیا یہ سیرتِ معصومین علیہم السّلام کے مطابق ہے۔
امام علی علیہ السلام کی شہادت سے قبل کا وہ لمحہ تاریخ کا آئینہ ہے جب آپ نے اپنے قاتل کے بارے میں فرمایا کہ اگر میں زندہ رہوں تو میں خود فیصلہ کروں گا اور اگر میں شہید ہو جاؤں تو ایک ہی ضرب کے بدلے ایک ہی ضرب دی جائے، زیادتی نہ کی جائے۔ یہ وہ معیارِ عدل ہے جسے دنیا کی بڑی بڑی عدالتیں بھی مثال کے طور پر پیش کرتی ہیں۔ یہاں انتقام نہیں، انصاف ہے۔ یہاں جذبات نہیں، ضابطہ ہے۔
ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ امت کا دشمن ہمیشہ ایک چہرہ نہیں رکھتا۔ کبھی وہ داخلی تعصب کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی بیرونی مداخلت کی شکل میں۔ کبھی نظریاتی انتہاپسندی، کبھی جغرافیائی سیاست۔ اس لیے باشعور اور باخبر رہنا دینی اور قومی فریضہ ہے۔ اگر ہم نے عام رائے کی بنیاد پر جلد بازی میں فیصلے کر لیے تو ممکن ہے اصل مجرم ھمیشہ کی طرح پردے کے پیچھے محفوظ رہے اور معاشرہ باہمی بدگمانی کا شکار ہو جائے۔
بدگمانی کے بارے میں قرآن سخت تنبیہ کرتا ہے کہ بہت سے گمان گناہ ہوتے ہیں۔ سماجی نفسیات کی جدید تحقیقات بھی بتاتی ہیں کہ جب کسی کمیونٹی کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا ہے تو ردِعمل میں دفاعی ذہنیت، نفرت اور سماجی تقسیم بڑھتی ہے۔ یوں دہشت گردی کا مقصد پورا ہو جاتا ہے، یعنی معاشرہ خود اپنے اندر دراڑیں ڈال لیتا ہے۔
پروفیسر تقی ہادی نقوی کا اصل تعارف ان کا مسلک نہیں، ان کا علم، ان کا تقویٰ اور ان کی انسان دوستی تھی۔ وہ شیعہ تھے، جیسے ان کے قریب قریب شہید ہونے والے شہید استاد سبطِ جعفر اور برادر سعید حیدر زیدی تھے۔ مگر ان کی شناخت صرف فرقہ وارانہ خانے میں محدود نہیں کی جا سکتی۔ وہ استاد تھے، اور استاد کی شہادت پوری قوم کا نقصان ہوتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے تعلیمی اعداد و شمار کے مطابق وہ معاشرے جو اپنے اساتذہ کے تحفظ اور وقار کو یقینی بناتے ہیں، وہاں شرحِ خواندگی، سماجی ہم آہنگی اور معاشی ترقی میں واضح بہتری آتی ہے۔ اس کے برعکس جہاں اساتذہ عدم تحفظ کا شکار ہوں، وہاں تعلیمی معیار اور سماجی استحکام متاثر ہوتا ہے۔
کراچی، جو کبھی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا، فرقہ وارانہ اور سیاسی تشدد کے کئی ادوار سے گزرا۔ کتنے چراغ بجھے، کتنے عرشِ بریں کے تارے اس زمین پر اترے اور مٹی اوڑھ لی۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے ان چراغوں کی روشنی کو محفوظ کیا۔ کیا ہم نے ان کے افکار کو نصاب، مکالمے اور سماجی اصلاح کا حصہ بنایا۔ اگر واقعی انصاف چاہتے ہیں تو ہمیں تین سطحوں پر کام کرنا ہوگا۔ پہلی سطح قانونی ہے۔ غیر جانبدارانہ تحقیق، شفاف عدالتی کارروائی اور ثبوت کی بنیاد پر فیصلہ۔ دوسری سطح فکری ہے۔ اسکول، مدارس، جامعات اور میڈیا میں اعتدال، رواداری اور مکالمے کی ترویج۔ تیسری سطح اخلاقی ہے۔ اپنے دلوں کو کینہ، تعصب اور اندھی تقلید سے پاک کرنا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے محفوظ رہیں۔ یہ حدیث محض انفرادی اخلاقیات نہیں، اجتماعی پالیسی کا اصول ہے۔ اگر ہم واقعی سنت کے پیروکار ہیں تو ہمیں اپنی گفتگو، تحریر اور سیاسی مؤقف میں اس معیار کو اپنانا ہوگا۔ شہداء کا غم کم نہیں ہوتا، نہ ان کا نعم البدل ممکن ہے۔ مگر ان کی یاد کو زندہ رکھنے کا طریقہ انتقام کی آگ نہیں، عدل کی روشنی ہے۔
پروفیسر تقی ہادی نقوی کی زندگی ہمیں یہی سکھاتی ہے کہ علم کے ذریعے دلوں کو فتح کیا جائے، اخلاق کے ذریعے معاشرے کو جوڑا جائے اور حق کے لیے استقامت اختیار کی جائے۔ کراچی کی سرخ اور زرخیز زمین آج بھی انصاف کی متلاشی ہے۔
یا رب العالمین ہمیں وہ بصیرت عطا فرما کہ ہم جذبات کے طوفان میں بھی عدل کا دامن نہ چھوڑیں۔ ہمیں وہ حوصلہ دے کہ ہم اصل مجرم تک پہنچنے کے لیے وسعتِ نظری اختیار کریں، اور وہ حکمت دے کہ ہم اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ ہونے دیں۔
پروفیسر علامہ تقی ہادی نقوی کی برسی محض تعزیتی تقریب نہ ہو، بلکہ عہدِ نو ہو۔ عہد اس بات کا کہ ہم قرآن کے حکم عدل اور سنت کے اسوۂ رحمت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ عہد اس بات کا کہ ہم شہداء کے خون کو نفرت کی سیاست کا ایندھن نہیں بننے دیں گے۔ عہد اس بات کا کہ ہم علم، تحقیق اور انصاف کے ذریعے اس معاشرے کو وہ امن لوٹائیں گے جس کا خواب ہر استاد اپنی کلاس میں دیکھتا ہے۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی فکر، ان کی مسکراہٹ اور ان کا درسِ عدل ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ یہی ان کی حقیقی حیات ہے اور یہی ہماری ذمہ داری۔
چُھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا