ایک اللہ، ایک رسول، ایک خانوادہ رسول ص تو پھر ہم ایک کیوں نہیں؟ (خود کلامی)
ایک اللہ کو ماننے والے، ایک رسول کو ماننے والے، ایک قرآن کو ماننے والے، اور ایک ہی خانوادۂ رسول، آلِ محمد علیہم السلام سے محبت و عقیدت رکھنے والے آخر ایک کیوں نہیں ہو سکتے؟
یہ سوال شاید دوسروں سے زیادہ ہمیں اپنے آپ سے کرنا چاہیے۔
اگر ہماری منزل رضائے الٰہی ہے، اگر ہماری آرزو خوشنودی رسولِ خدا اور آلِ محمد علیہم السلام ہے، اگر ہماری عبادت، ہماری مجلس، ہماری عزاداری، ہماری نیاز، ہماری تبلیغ، ہماری مذہبی خدمت اور ہماری اجتماعی جدوجہد اسی مقصد کے لیے ہے، تو پھر ہمارے دل ایک دوسرے سے اتنے دور کیوں ہیں؟
منزل ایک ہے تو راستے ایک دوسرے کے دشمن کیوں بن گئے ہیں؟
اختلافِ رائے اپنی جگہ، فکری اختلاف اپنی جگہ، طریقۂ کار کا فرق اپنی جگہ؛ لیکن کیا یہ اختلافات ہمیں ایک دوسرے سے محبت کرنے، ایک دوسرے کا احترام کرنے اور ایک دوسرے کے لیے ایثار کرنے سے بھی روک دیتے ہیں؟
یہ سوال خاص طور پر ان لوگوں کو اپنے دل سے پوچھنا چاہیے جو مذہبی خدمت میں مصروف ہیں۔
اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خدمت کے میدان میں بھی ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ ہے۔ کہیں مجلس زیادہ بڑی ہونی چاہیے، کہیں مجمع زیادہ ہونا چاہیے، کہیں نام زیادہ نمایاں ہونا چاہیے، کہیں ہماری تنظیم، ہمارا ادارہ، ہمارا گروہ، ہماری قیادت دوسروں سے ممتاز نظر آنی چاہیے۔
ہم ذرا ٹھہر کر اپنے دل میں جھانکیں۔
کیا ہم یہ سب واقعی اللہ کی رضا کے لیے کر رہے ہیں؟
اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر کسی دوسرے کی کامیابی ہمیں پریشان کیوں کرتی ہے؟
کسی دوسرے کی مجلس میں زیادہ لوگ جمع ہوں تو ہمیں خوشی کیوں نہیں ہوتی؟
کسی دوسرے کی خدمت کو پذیرائی ملے تو ہمارا دل تنگ کیوں ہوتا ہے؟
کسی دوسرے کو آگے بڑھتا دیکھ کر ہمارے اندر بے چینی کیوں پیدا ہوتی ہے؟
کیا اللہ کے دین کی خدمت بھی ہماری انا کی تسکین کا ذریعہ بن گئی ہے؟
یہ ایک تلخ سوال ہے، مگر شاید ہمیں اس سوال سے بھاگنے کے بجائے اس کا سامنا کرنا چاہیے۔
ہم دوسروں کی ریاکاری تلاش کرتے ہیں، مگر اپنے نفس کی ریاکاری نہیں دیکھتے۔
ہم دوسروں کی خودنمائی پر تنقید کرتے ہیں، مگر اپنے نام، اپنی تصویر، اپنی مجلس اور اپنی قیادت کی تشہیر کو کبھی اسی نظر سے نہیں دیکھتے۔
ہم دوسروں کے اخلاص پر سوال اٹھاتے ہیں، لیکن کبھی اپنے دل سے نہیں پوچھتے کہ میرے اس عمل میں اللہ کتنا ہے اور میں خود کتنا ہوں؟
نیک عمل کی اصل خوبصورتی یہی ہے کہ انسان اسے انجام دے اور اپنے نفس کو اس کا مالک نہ بننے دے۔
مجلس اللہ کے لیے ہو۔
عزاداری اللہ کے لیے ہو۔
نیاز اللہ کے لیے ہو۔
تبلیغ اللہ کے لیے ہو۔
خدمت اللہ کے لیے ہو۔
جلسہ اللہ کے لیے ہو۔
جلوس اللہ کے لیے ہو۔
مال خرچ کرنا اللہ کے لیے ہو۔
وقت دینا اللہ کے لیے ہو۔
اور اگر کسی موقع پر اجتماعی مصلحت کے لیے اپنے حق، اپنی خواہش، اپنی انا اور اپنے مقام سے پیچھے ہٹنا پڑے تو وہاں بھی اللہ کی رضا کو اپنی ذات پر ترجیح دی جائے۔ یہی تو اصل امتحان ہے۔
ہم میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے حق ملے، اسے عزت ملے، اس کی بات مانی جائے، اس کی قیادت تسلیم کی جائے۔ لیکن کبھی کبھی بڑے مقصد کے لیے انسان کو اپنا حق ہوتے ہوئے بھی پیچھے ہٹنا پڑتا ہے۔
روایات میں امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے سامنے دو عورتوں کے ایک بچے پر دعویٰ کرنے کا واقعہ بیان کیا جاتا ہے۔ فیصلہ مشکل تھا۔ جب بچے کو تقسیم کرنے کی بات ہوئی تو ایک عورت راضی ہوگئی، جبکہ دوسری عورت نے فوراً اپنے دعوے سے دستبردار ہو کر کہا کہ بچہ دوسری عورت کو دے دیا جائے، اسے تقسیم نہ کیا جائے۔
مولا علی علیہ السلام نے اسی ردِعمل سے پہچان لیا کہ حقیقی ماں کون ہے۔
یہ واقعہ ہمیں صرف مادری محبت نہیں سکھاتا؛ یہ ایثار کا ایک عظیم سبق بھی دیتا ہے۔
جس کے لیے مقصد اپنی ذات سے بڑا ہو، وہ کبھی کبھی اپنے حق سے بھی دستبردار ہونے کا حوصلہ رکھتا ہے۔
آج ہمیں بھی یہی سوال اپنے سامنے رکھنا ہے:
کیا ہم اپنے اجتماعی مفاد، اپنے مکتب کی سربلندی، اپنے معاشرے کی وحدت اور آلِ محمد علیہم السلام کی خوشنودی کے لیے اپنی انا کا ایک ٹکڑا قربان کر سکتے ہیں؟ کیا ہم کبھی یہ کہہ سکتے ہیں کہ
“میں درست ہوں، لیکن اگر میرے پیچھے ہٹنے سے دل جڑتے ہیں تو میں پیچھے ہٹ جاؤں گا۔”
“میرا حق ہے، لیکن اگر اس حق کے مطالبے سے امت میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے تو میں اپنے حق سے دستبردار ہو جاؤں گا۔”
“مجھے قیادت مل سکتی ہے، لیکن اگر کسی دوسرے کے آگے آنے سے اجتماعی کام بہتر ہوتا ہے تو میں اس کے پیچھے کھڑا ہو جاؤں گا۔”
یہ شکست نہیں۔
یہ نفس پر فتح ہے۔
ہمیں یہ بھی سوچنا ہوگا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم دین کی خدمت کرتے کرتے اپنے نفس کی خدمت شروع کر دیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ جس نام کو مٹانے کے لیے اہل بیت علیہم السلام نے قربانیاں دیں، ہم اسی نام کے سائے میں اپنا نام بڑا کرنے لگیں؟
کہیں ایسا تو نہیں کہ ہماری زبان پر محمد و آل محمد علیہم السلام ہوں، مگر ہمارے دل میں “میں” بیٹھا ہو؟
یہ “میں” ہی تو سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
میں نے کیا۔
میری مجلس۔
میرا ادارہ۔
میرا گروہ۔
میری تنظیم۔
میری قیادت۔
میرا موقف۔
میری شہرت۔
اور آہستہ آہستہ “ہم” کہیں پیچھے رہ جاتا ہے۔
حالانکہ اہل بیت علیہم السلام کی محبت ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنے والی قوت ہونی چاہیے، ایک دوسرے سے لڑانے والی نہیں۔
ہم سب کامل نہیں ہیں۔ ہمارے فہم مختلف ہیں، ہماری ترجیحات مختلف ہیں، ہمارے طریقے مختلف ہیں۔ لیکن اگر محبت کا مرکز ایک ہے تو اختلاف ہمیں دشمن کیوں بنا دے؟
ہمیں ایک دوسرے کے عیب گننے سے پہلے اپنے نفس کا حساب کرنا ہوگا۔
رات کو سونے سے پہلے کبھی خود سے پوچھیں:
آج میں نے جو نیکی کی، وہ کس کے لیے تھی؟
جو مجلس میں نے کروائی، کیا وہ اللہ کے لیے تھی یا لوگوں کی تعریف کے لیے؟
جو خدمت میں نے کی، کیا اس میں واقعی اخلاص تھا یا میرا نام نمایاں ہونا بھی ضروری تھا؟
جو اختلاف میں نے کیا، کیا میں حق کی حفاظت کر رہا تھا یا اپنی انا کی؟
جو بات میں نے کہی، کیا اس سے اہل ایمان کے دل جڑنے تھے یا ٹوٹنے؟
اور اگر مجھے اپنے اجتماعی بھائی کے لیے ایک قدم پیچھے ہٹنا پڑا تو کیا میں ہٹ سکا؟
یہ سوال آسان نہیں ہیں۔
مگر شاید ہماری اصل اصلاح انہی سوالات سے شروع ہوگی۔
ہمیں ہر نیک عمل سے پہلے بھی نیت درست کرنی ہے اور ہر نیک عمل کے بعد بھی اپنے نفس کا محاسبہ کرنا ہے۔ کیونکہ ممکن ہے جس عمل کے لیے ہم دنیا سے داد وصول کر رہے ہوں، اس کی اللہ کے ہاں کوئی قدر نہ ہو؛ اور ممکن ہے جس خاموش قربانی کا دنیا کو علم بھی نہ ہو، وہ اللہ کے ہاں ہمارے لیے نجات کا ذریعہ بن جائے۔
اس لیے شاید وقت آگیا ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے آپ کو بدلنے کی کوشش کریں۔
اپنی انا کو تھوڑا سا توڑیں۔
اپنی ضد کو تھوڑا سا کم کریں۔
اپنی جاہ طلبی کو تھوڑا سا دفن کریں۔
دوسرے کی کامیابی پر خوش ہونا سیکھیں۔
دوسرے کی خدمت کو اپنی خدمت سمجھیں۔
اور جہاں ممکن ہو، اپنے بھائی کے لیے راستہ چھوڑ دیں۔
آخر میں ہم سب نے جانا کہاں ہے؟
نہ یہ نام ساتھ جائے گا، نہ منصب، نہ تنظیم، نہ عہدہ، نہ مجلس کی شہرت، نہ مجمع کی تعداد۔
ساتھ صرف عمل جائے گا۔
اور عمل کی قدر اس کے حجم سے نہیں، اس کے اخلاص سے ہوگی۔
لہٰذا آج ضرورت اس بات کی نہیں کہ کون کس سے بڑا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم سب اپنے رب کے سامنے کتنے مخلص ہیں۔
آئیں، ایک دوسرے کو شکست دینے کے بجائے اپنے نفس کو شکست دیں۔
ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے بجائے نیکی میں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامیں۔
اپنے نام کو بلند کرنے کے بجائے محمد و آل محمد علیہم السلام کے پیغام کو بلند کریں۔
اور جہاں ہماری انا، ہماری خواہش اور ہماری ذات اجتماعی وحدت کے راستے میں حائل ہو، وہاں اپنے نفس سے کہیں:
پیچھے ہٹ جا، کیونکہ منزل میری ذات نہیں،،، اللہ کی رضا ہے۔
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں اختلاف کے باوجود دل متحد ہو سکتے ہیں، راستے مختلف ہونے کے باوجود منزل ایک رہ سکتی ہے، اور ہم واقعی اس خانوادۂ رسول کے پیروکار کہلا سکتے ہیں جس کی محبت کا تقاضا صرف زبان سے عقیدت نہیں بلکہ اخلاق، ایثار، اخوت، محبت اور قربانی بھی ہے۔
خدا ہمیں اپنے لیے نہیں، صرف اپنی رضا کے لیے جینے، خدمت کرنے اور قربانی دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔